دوسال میں10ہزارروزگاردیں گے،ن لیگ نے منشورپیش کردیا
گلگت ( رستم علی )مسلم لیگ ن گلگت بلتستان نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کیلئے 24نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کردیا ،اقتدار ملاتو آئینی ڈھانچے کے قیام کےساتھ ساتھ انتظامی ،سماجی ،مالیاتی اور اقتصادی شعبوں میں جدید منصوبہ بندی اور اصلاحات کئے جانے کا دعویٰ کردیا جبکہ موٹر ویز کی طرز پر قراقرم ہائی وے ،بابو سر ہائی وے ،گلگت سکردو روڈ ،شونٹر پاس اور گلگت تا شندور ایکسپریس وے تعمیر کرنے کا اعلان کیاگیا ،بدھ کے روز صوبائی سیکرٹریٹ گلگت میں منعقدہ تقریب میں مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے صدر حافظ حفیظ الرحمن نے منشور کا باقاعدہ اعلان کردیا ،اس موقع پر رکن قومی اسمبلی چوہدری عابد رضا ،صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری جعفراللہ کے علاوہ پارٹی کے دیگر عہدیدار موجود تھے منشور کا اعلان کرتے ہوئے حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ہم نے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے منشور بنایا ہے اور ان ایریاز کو شامل کیا ہے جو صوبائی حکومت کے اختیارات میں ہے جبکہ وفاقی حکومت کے اصلاحات کو منشور کا حصہ نہیں بنایاگیا ہے جس میں آئینی حیثیت کی تعین کی بات بھی ہے انہوں نے کہا کہ بہت سے منصوبے ایسے ہیں جن پر مرکزی حکومت کی طرف سے اعلان کے بعد عملدرآمد بھی جاری ہیں جن میں کئی بڑے منصوبے شامل ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کا موقع ملا تو پنجاب کے بلدیاتی نظام کو لیکر آگے جائینگے جبکہ اگلے تین سے چار سالوں میں 380میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کرینگے اسیطرح چار قومی اداروں بطور مبصر شرکت بھی یقینی بنائی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ جنگلات ،منزلز اور ہائیڈرو جی بی کونسل کے پاس ہے ہماری کوشش ہوگی کہ مذکورہ تینوں چیزوں پر قانون سازی کا اختیار صوبائی اسمبلی کو ملے اور صوبائی اسمبلی پچاس میگاواٹ تک بجلی کے منصوبے کیلئے باہر سے امداد لینے میں بھی آزاد ہو سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم اگلے دو سالوں میں دس ہزار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع پیدا کرینگے انہوں نے کہا کہ ایفاد کی پراجیکٹ سے منظور ہوچکا ہے اور فنڈز بھی تقسیم ہوئے ہیں جس سے 800کنال زمین کو آباد کیاجائیگا اور انشااللہ ہم اپنی آمدن کو 42کروڑ سے بڑھاکر 10ارب تک لے جائینگے کیونکہ 800کنال زمین آباد ہونے سے ہم گندم بیچنے کی پوزیشن میں آجائینگے ماضی کی حکومت نے خود منصوبہ بندی کرنے کے بجائے بیووکریسی کے اشاروں پر چلتی رہی جس کی وجہ سے انہیں کچھ سمجھ نہیں آیا ،انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی ضرور گلگت بلتستان کے نمائندوں کو اعتماد میں لیکر فیصلہ کریگا اور ہم فیصلہ چاہتے ہیں جس پر یہاں بسنے والے تمام لو گ راضی ہوں ،گورننس آرڈر 2009ءکی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہمیں عبوری آئین کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ہم صاف شفاف انتخابات کے انعقاد پر یقین رکھتے ہیں اس لئے کچھ جماعتوں کی فوج کے نگرانی میں انتخابات کرانے کی ڈیمانڈ پر ان کی بات تسلیم کیاگیا تاکہ وہ بعد میں شور نہ مچا سکے اور دوسر ی بات ہم نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ریلیوں میں اسلحہ بھی دیکھا جس کے بعد فوج کی نگرانی میں انتخابات کروانا ضروری ہوگیا تھا ،انہوں نے کہا کہ بعض جماعتیں آئینی حقوق کی بات کرتی ہے مگران کی ایک صوبے میں نمائندگی ہے تو دوسرے صوبے میں امیدوار تک نہیں وہ عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بعض جماعتیں فلاحی اداروں کے زکواة اور خیرات کے پیسے انتخابی مہم کیلئے استعمال کررہے ہیں اور قوموں کو تقسیم کیاجارہا ہے ہم ان کے فنڈنگ کرنے والوں سے رابطے کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن واحد جماعت ہے جس نے سب سے پہلے اپنا منشور عوام کے سامنے رکھا اور ایک منظم منصوبہ عوام کو دیا دیگر سیاسی جماعتیں بھی کردار کشی کے بجائے اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کریں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی چوہدری عابد رضا نے کہا کہ مسلم لیگ گگلت بلتستان کے عوام کےساتھ مخلص ہے اس لئے انقلابی منشور آپ کے سامنے ہے یہ ہمارے سوچ کی عکاسی کرتی ہے ہمیں موقع ملا تو اپنے منشور پر من و عن عملدرآمد کروائینگے انہوں نے کہا کہ ماضی کے الیکشن اور موجود ہالیکشن میں فرق یہ ہے کہ اس الیکشن میں سرکاری مشینری استعمال نہیں ہورہی اور ہم سب اپنے خرچے پر گلگت آتے ہیں ،منشور میں جن امور کا ذکر کیاگیاوہ کچھ اسطرح ہے پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان پاک چین اقتصادی راہداری کاعظیم الشان منصوبے کو علاقے کی روشن ترقی کا باب اول بنائیگی ،دیامر بھاشاہ ڈیم کو گلگت بلتستان کی تاریخ میں روشن مستقبل اور مقامی سطح پرروزگار کے ہزاروں مواقعوں کی فراہمی کا عظیم الشان منصوبہ بنائیگی ،پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان قراقرم ہائی وے ،بابوسرہائی وے ،گلگت سکردوروڈ ،شونٹر پاس اور گلگت تاشند ور ایکسپر یس وے کو جدید موٹرویز کی سڑکیں بناکر تاریخی انقلابی ترقی کی مثال قائم کریگی ، پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان وزیر اعظم یوتھ لون سکیم کے منصوبے کے تحت نوجوانوں کو باوقار اور خومختار روزگار فراہم کریگی ، پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان وزیر اعظم لیپ ٹاپ سکیم کے تحت طلبا و طالبات کو زیادہ سے زیادہ لیپ ٹاپ فراہم کریگی ،پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان وزیر اعظم یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت آئندہ پانچ سالوں میں ہزاروں نوجوانوں کو جدید ہنر اور اس کے ذریعے روزگار کے مواقع فراہم کریگی ،پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان میں روزگار کے بھرپور مواقع فراہم کرنے کیلئے آئندہ پانچ سالوں میں سرکاری ونجی سیکٹر میں ہزاروں نئی آسامیاں پیداکریگی ، گلگت بلتستان میں کم آمدن والے طبقے کیلئے رہائش کی سستی فراہمی ،نئی ہاﺅسنگ سکیم اور آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم کے طرز پر رہائشی منصوبوں کا آغاز کیاجائےگا ،گلگت بلتستان میں جدید تعلیم کی ترقی کیلئے ہماری حکومت زیادہ سے زیادہ مالی اورتکینکی اقدامات کریگی غریب طلبا کیلئے انڈومنٹ فنڈاور سکالرشپ کے پروگراموں کا آغاز کیاجائےگا ،گلگت بلتستان میں صحت کے شعبے کی ترقی کے تحت علاقے کے ہسپتالوں اور ڈسپنریوں کو جدید مشینری اورعلاج و معالجے کی سستی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایاجائےگا ، گلگت بلتستان میں انصاف کی آسان اور فوری فراہمی کیلئے آزاد عدلیہ ،پراسیکوشن کے نظام کو جدید خطوط پراستوار کرنے اور ترقی کیلئے اقدامات کئے جائینگے ، گلگت بلتستان میں بدعنوانی کے خاتمے کیلئے ترقیاتی اور مالیاتی نگرانی کا نظام قائم کیاجائےگا ۔
گلگت ( رستم علی )مسلم لیگ ن گلگت بلتستان نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کیلئے 24نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کردیا ،اقتدار ملاتو آئینی ڈھانچے کے قیام کےساتھ ساتھ انتظامی ،سماجی ،مالیاتی اور اقتصادی شعبوں میں جدید منصوبہ بندی اور اصلاحات کئے جانے کا دعویٰ کردیا جبکہ موٹر ویز کی طرز پر قراقرم ہائی وے ،بابو سر ہائی وے ،گلگت سکردو روڈ ،شونٹر پاس اور گلگت تا شندور ایکسپریس وے تعمیر کرنے کا اعلان کیاگیا ،بدھ کے روز صوبائی سیکرٹریٹ گلگت میں منعقدہ تقریب میں مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے صدر حافظ حفیظ الرحمن نے منشور کا باقاعدہ اعلان کردیا ،اس موقع پر رکن قومی اسمبلی چوہدری عابد رضا ،صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری جعفراللہ کے علاوہ پارٹی کے دیگر عہدیدار موجود تھے منشور کا اعلان کرتے ہوئے حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ہم نے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے منشور بنایا ہے اور ان ایریاز کو شامل کیا ہے جو صوبائی حکومت کے اختیارات میں ہے جبکہ وفاقی حکومت کے اصلاحات کو منشور کا حصہ نہیں بنایاگیا ہے جس میں آئینی حیثیت کی تعین کی بات بھی ہے انہوں نے کہا کہ بہت سے منصوبے ایسے ہیں جن پر مرکزی حکومت کی طرف سے اعلان کے بعد عملدرآمد بھی جاری ہیں جن میں کئی بڑے منصوبے شامل ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کا موقع ملا تو پنجاب کے بلدیاتی نظام کو لیکر آگے جائینگے جبکہ اگلے تین سے چار سالوں میں 380میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کرینگے اسیطرح چار قومی اداروں بطور مبصر شرکت بھی یقینی بنائی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ جنگلات ،منزلز اور ہائیڈرو جی بی کونسل کے پاس ہے ہماری کوشش ہوگی کہ مذکورہ تینوں چیزوں پر قانون سازی کا اختیار صوبائی اسمبلی کو ملے اور صوبائی اسمبلی پچاس میگاواٹ تک بجلی کے منصوبے کیلئے باہر سے امداد لینے میں بھی آزاد ہو سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم اگلے دو سالوں میں دس ہزار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع پیدا کرینگے انہوں نے کہا کہ ایفاد کی پراجیکٹ سے منظور ہوچکا ہے اور فنڈز بھی تقسیم ہوئے ہیں جس سے 800کنال زمین کو آباد کیاجائیگا اور انشااللہ ہم اپنی آمدن کو 42کروڑ سے بڑھاکر 10ارب تک لے جائینگے کیونکہ 800کنال زمین آباد ہونے سے ہم گندم بیچنے کی پوزیشن میں آجائینگے ماضی کی حکومت نے خود منصوبہ بندی کرنے کے بجائے بیووکریسی کے اشاروں پر چلتی رہی جس کی وجہ سے انہیں کچھ سمجھ نہیں آیا ،انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی ضرور گلگت بلتستان کے نمائندوں کو اعتماد میں لیکر فیصلہ کریگا اور ہم فیصلہ چاہتے ہیں جس پر یہاں بسنے والے تمام لو گ راضی ہوں ،گورننس آرڈر 2009ءکی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہمیں عبوری آئین کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ہم صاف شفاف انتخابات کے انعقاد پر یقین رکھتے ہیں اس لئے کچھ جماعتوں کی فوج کے نگرانی میں انتخابات کرانے کی ڈیمانڈ پر ان کی بات تسلیم کیاگیا تاکہ وہ بعد میں شور نہ مچا سکے اور دوسر ی بات ہم نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ریلیوں میں اسلحہ بھی دیکھا جس کے بعد فوج کی نگرانی میں انتخابات کروانا ضروری ہوگیا تھا ،انہوں نے کہا کہ بعض جماعتیں آئینی حقوق کی بات کرتی ہے مگران کی ایک صوبے میں نمائندگی ہے تو دوسرے صوبے میں امیدوار تک نہیں وہ عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بعض جماعتیں فلاحی اداروں کے زکواة اور خیرات کے پیسے انتخابی مہم کیلئے استعمال کررہے ہیں اور قوموں کو تقسیم کیاجارہا ہے ہم ان کے فنڈنگ کرنے والوں سے رابطے کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن واحد جماعت ہے جس نے سب سے پہلے اپنا منشور عوام کے سامنے رکھا اور ایک منظم منصوبہ عوام کو دیا دیگر سیاسی جماعتیں بھی کردار کشی کے بجائے اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کریں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی چوہدری عابد رضا نے کہا کہ مسلم لیگ گگلت بلتستان کے عوام کےساتھ مخلص ہے اس لئے انقلابی منشور آپ کے سامنے ہے یہ ہمارے سوچ کی عکاسی کرتی ہے ہمیں موقع ملا تو اپنے منشور پر من و عن عملدرآمد کروائینگے انہوں نے کہا کہ ماضی کے الیکشن اور موجود ہالیکشن میں فرق یہ ہے کہ اس الیکشن میں سرکاری مشینری استعمال نہیں ہورہی اور ہم سب اپنے خرچے پر گلگت آتے ہیں ،منشور میں جن امور کا ذکر کیاگیاوہ کچھ اسطرح ہے پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان پاک چین اقتصادی راہداری کاعظیم الشان منصوبے کو علاقے کی روشن ترقی کا باب اول بنائیگی ،دیامر بھاشاہ ڈیم کو گلگت بلتستان کی تاریخ میں روشن مستقبل اور مقامی سطح پرروزگار کے ہزاروں مواقعوں کی فراہمی کا عظیم الشان منصوبہ بنائیگی ،پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان قراقرم ہائی وے ،بابوسرہائی وے ،گلگت سکردوروڈ ،شونٹر پاس اور گلگت تاشند ور ایکسپر یس وے کو جدید موٹرویز کی سڑکیں بناکر تاریخی انقلابی ترقی کی مثال قائم کریگی ، پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان وزیر اعظم یوتھ لون سکیم کے منصوبے کے تحت نوجوانوں کو باوقار اور خومختار روزگار فراہم کریگی ، پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان وزیر اعظم لیپ ٹاپ سکیم کے تحت طلبا و طالبات کو زیادہ سے زیادہ لیپ ٹاپ فراہم کریگی ،پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان وزیر اعظم یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت آئندہ پانچ سالوں میں ہزاروں نوجوانوں کو جدید ہنر اور اس کے ذریعے روزگار کے مواقع فراہم کریگی ،پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان میں روزگار کے بھرپور مواقع فراہم کرنے کیلئے آئندہ پانچ سالوں میں سرکاری ونجی سیکٹر میں ہزاروں نئی آسامیاں پیداکریگی ، گلگت بلتستان میں کم آمدن والے طبقے کیلئے رہائش کی سستی فراہمی ،نئی ہاﺅسنگ سکیم اور آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم کے طرز پر رہائشی منصوبوں کا آغاز کیاجائےگا ،گلگت بلتستان میں جدید تعلیم کی ترقی کیلئے ہماری حکومت زیادہ سے زیادہ مالی اورتکینکی اقدامات کریگی غریب طلبا کیلئے انڈومنٹ فنڈاور سکالرشپ کے پروگراموں کا آغاز کیاجائےگا ،گلگت بلتستان میں صحت کے شعبے کی ترقی کے تحت علاقے کے ہسپتالوں اور ڈسپنریوں کو جدید مشینری اورعلاج و معالجے کی سستی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایاجائےگا ، گلگت بلتستان میں انصاف کی آسان اور فوری فراہمی کیلئے آزاد عدلیہ ،پراسیکوشن کے نظام کو جدید خطوط پراستوار کرنے اور ترقی کیلئے اقدامات کئے جائینگے ، گلگت بلتستان میں بدعنوانی کے خاتمے کیلئے ترقیاتی اور مالیاتی نگرانی کا نظام قائم کیاجائےگا ۔

Comments
Post a Comment