محمدعلی اختراورجاویدحسین کے کاغذات نامزدگی مسترد

ہنزہ نگر:ہنزہ نگر میں سابق وزیر خزانہ محمد علی اختر سمیت 11اہم سیاسی رہنماﺅں کے کاغذات مسترد کر دیئے گئے جن امیدواروں کے کاغذات مسترد کئے گئے ہیں ان میں حلقہ چار سے محمد علی اختر ، جاوید حسین ، محمد علی قائد، شیخ بلال، حاجت علی ، حلقہ پانچ سے عبدالکریم، عباس علی اور عیسیٰ ایڈووکیٹ اور حلقہ چھ سے پرنس سلیم خان ، راجہ شہباز خان اور نور محمد شامل ہیں۔ تینوں حلقوں سے مجموعی طور پر تحریک انصاف کے رہنما مرزا حسین ، مسلم لیگ ن کے میر غضنفر ، قلب علی ، اسلامی تحریک کے محمد علی شیخ، پیپلزپارٹی کے ظفر اقبال، تحریک انصاف کے اظہار ہنزائی، پیپلزپارٹی کی سلطانہ اقبال، پیپلزپارٹی کے وزیر بیگ اور بابا جان ذوالفقار علی مراد سمیت 58امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ، مذکورہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کی سرکاری طور پر وجوہات نہیں بتائی گئیں، تا ہم ذرائع کے مطابق ان میں سے بیشتر امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مختلف بنکوں کے ڈیفالٹر ہونے کی وجہ سے مسترد کئے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں آرٹیکل 63,62 کے نفاذ کے بعد اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کئی اہم سیاسی رہنما بنکوں کے ڈیفالٹر ہونے کی وجہ سے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے 11اہم رہنماﺅں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد ہنزہ نگر کی سیاسی صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی ہے اور یہاں کئی دلچسپ باتیں بھی سامنے آئی ہیں پہلی بات یہ ہے کہ جن شخصیات کے بارے میں پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ وہ نادہندہ ہونے سے انتخابات نہیں لڑ سکیں گے ان میں سے بیشتر بچ گئے اور ان کے کاغذات منظور کر لئے گئے تا ہم بعض امیدوار آرٹیکل 63,62 کی زد میں آ گئے جن لوگوں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں ان میں بعض وہ لوگ بھی ہیں جو دوسرے امیدواروں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف تھے کہ یہ لوگ بنکوں کے نادہندہ ہیں اور یہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے لیکن صورتحال اچانک بدل گئی پراپیگنڈہ کرنے والے خود ڈیفالٹر نکلے اور جن پر ڈیفالٹر ہونے کا الزام لگایا جا رہا تھا ان کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے۔حلقہ 6ہنزہ سے میر غضنفر اور ان کے بیٹے پرنس سلیم خان دونوں نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے ذرائع کے مطابق پرنس سلیم نے اس لئے کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے کہ اگر میر غضنفر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے تو ان کی جگہ پر وہ الیکشن لڑیں گے لیکن خوش قسمتی سے میر غضنفر کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے جبکہ پرنس سلیم خان کے کاغذات مسترد کر دیئے گئے۔ذرائع کے مطابق میر غضنفر کو الیکشن سے دور رکھنے کیلئے کئی لابیاں سرگرم عمل تھیں خود مسلم لیگ ن کے اندر بعض عناصر اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ میر غضنفر کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے اور آگے سیاسی میدان میں ان کا کوئی مدمقابل نہیں رہے گا خود ہنزہ کے اندر بھی ان کے مخالفین اس امید میں تھے کہ میر غضنفر کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے اور ان کے لئے الیکشن جیتنا آسان ہو جائے گا لیکن ان کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔کاغذات مسترد ہونے والے امیدوار 4دن تک الیکشن ٹریبونل میں اپیل کر سکیں گے 16مئی کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

بدترین لوڈ شیڈنگ، سکردو میں سڑکوں پر افطاری

Cheif of army

سحر و افطار میں لوڈشیڈنگ کرنے پر وزیر اعظم برہم