جون میں انتخابات سے 50 فیصد ووٹرز حق رائے دہی سے محروم رہ جائیں گے،فدا ناشاد
سکردو :مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماءاور سابق ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو حاجی فدا محمد ناشاد نے کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں سنگین غلطیاں ہوئی ہیں اگر موجودہ فہرستوں کے تحت8جون کو انتخابات کرائے گئے تو گلگت بلتستان کے 50فیصد ووٹرز حق رائے دہی سے محروم رہ جائیں گے انتخابی فہرستوں میں سنگین غلطیوں کے باعث غیر جانبدار صاف شفاف الیکشن سوالیہ نشان بن جائیں گے اور انتخابات کی شفافیت پر انگلی اٹھے گی کے پی این کو دیئے گئے انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ تحصیل کھرمنگ کی یونین کونسل کتی شو کے کئی رائے دہندہ گان کے نام تحصیل گلتری کی فہرستوں میں شامل کئے گئے ہیں اسی طرح دوسرے علاقوںکے ووٹرز کے ناموں کے اندراج میں بھی سنگین قسم کی غلطیاں کی گئی ہیں اور ناموں کے اندراج غلط کئے گئے ہیں کئی دیہاتوں کے رائے دہندگان کے نام بھی غلط درج کئے گئے ہیں اس لئے یہ بات کنفرم ہو گئی ہے کہ گلگت بلتستان کے کم وبیش 50فیصد ووٹرز حق رائے دہی سے محروم ہو جائیں گے ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ انتخابی فہرستوں میں سنگین قسم کی غلطیاں کی گئی ہیں اور ان غلطیوں کو وقت پر درست کیا جائے لیکن کوئی نوٹس نہیں لیا گیا انہوںنے کہا کہ بہت سارے ووٹرز ایسے ہیں جن کے نام اپنے پولنگ اسٹیشن کے بجائے دوسرے پولنگ سٹیشن میں درج کئے گئے ہیں بتا یا جائے کہ تحصیل کھرمنگ کے ووٹرز کئی کلو میٹر طے کر کے ووٹ ڈالنے کےلئے تحصیل گلتری میں کیسے جائیں گے انہوںنے کہاکہ انتخابات کےلئے جو تاریخ مقرر کی گئی تھی اس پر ہم نے پہلے خدشہ ظاہر کیا تھا آج ہمارے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں اور انتخابات کی شفافیت پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں انہوں نے کہا کہ متعدد دہی علاقے ایسے ہیں جہاں کے بہت سارے لوگ جون میں اپنے مال مویشیوں کے ہمراہ پہاڑ ی چراگاہوں کی جانب جاتے ہیں یوں انتخابات میں یہ لوگ ووٹ نہیں ڈال سکیں گے انہوںنے کہا کہ انتخابی فہرستوں میں ہونے والی سنگین غلطیوں کے بارے میں ہم نے چیف الیکشن کمشنر اور متعقلہ ریٹرننگ افیسر کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے مگر اس کے باوجود کوئی اقدام نہ اتھا نا متعلقہ حکام کی کوتاہی ہے ہم چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انتخابی فہرستوں کو درست کرنے کے بعد انتخابات کروائیں اور سیاسی دینی جماعتوں کے تحفظات دور کر یں فہرستیں درست کئے بغیر انتخابات کروائے گئے حکومت کی بد نامی ہو گی انہوںنے کہا کہ انتخابی فہرستوں میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتراض ہے ہم نے اپنے اعتراضات اور خدشات کا اظہارڈسٹرکٹ ریٹرننگ افیسر کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں کر دیا ہے اجلاس میں تمام جماعتوں نے انتخابی فہرستوں میں ہونے والی سنگین غلطیوں کو درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے انہوںنے کہا کہ صاف شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کو یقینی بنانے کےلئے انتخابی فہرستیں درست کرنا ہوں گی انہوں نے کہا کہ گورنر ، وزیر اعلیٰ ، چیف سکریٹری اور چیف الیکشن کمشنر سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غیر جانبدار صاف شفاف الیکشن کو یقینی بنانے کےلئے خصوصی اقدامات کریں اور انتخابی فہرستوں میں ہونے والی خامیوں کو درست کرنے کےلئے احکا مات جاری کریں انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم کے اعلانات پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے جس سے مخالفین پریشان ہوگئے ہیں۔
سکردو :مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماءاور سابق ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو حاجی فدا محمد ناشاد نے کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں سنگین غلطیاں ہوئی ہیں اگر موجودہ فہرستوں کے تحت8جون کو انتخابات کرائے گئے تو گلگت بلتستان کے 50فیصد ووٹرز حق رائے دہی سے محروم رہ جائیں گے انتخابی فہرستوں میں سنگین غلطیوں کے باعث غیر جانبدار صاف شفاف الیکشن سوالیہ نشان بن جائیں گے اور انتخابات کی شفافیت پر انگلی اٹھے گی کے پی این کو دیئے گئے انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ تحصیل کھرمنگ کی یونین کونسل کتی شو کے کئی رائے دہندہ گان کے نام تحصیل گلتری کی فہرستوں میں شامل کئے گئے ہیں اسی طرح دوسرے علاقوںکے ووٹرز کے ناموں کے اندراج میں بھی سنگین قسم کی غلطیاں کی گئی ہیں اور ناموں کے اندراج غلط کئے گئے ہیں کئی دیہاتوں کے رائے دہندگان کے نام بھی غلط درج کئے گئے ہیں اس لئے یہ بات کنفرم ہو گئی ہے کہ گلگت بلتستان کے کم وبیش 50فیصد ووٹرز حق رائے دہی سے محروم ہو جائیں گے ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ انتخابی فہرستوں میں سنگین قسم کی غلطیاں کی گئی ہیں اور ان غلطیوں کو وقت پر درست کیا جائے لیکن کوئی نوٹس نہیں لیا گیا انہوںنے کہا کہ بہت سارے ووٹرز ایسے ہیں جن کے نام اپنے پولنگ اسٹیشن کے بجائے دوسرے پولنگ سٹیشن میں درج کئے گئے ہیں بتا یا جائے کہ تحصیل کھرمنگ کے ووٹرز کئی کلو میٹر طے کر کے ووٹ ڈالنے کےلئے تحصیل گلتری میں کیسے جائیں گے انہوںنے کہاکہ انتخابات کےلئے جو تاریخ مقرر کی گئی تھی اس پر ہم نے پہلے خدشہ ظاہر کیا تھا آج ہمارے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں اور انتخابات کی شفافیت پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں انہوں نے کہا کہ متعدد دہی علاقے ایسے ہیں جہاں کے بہت سارے لوگ جون میں اپنے مال مویشیوں کے ہمراہ پہاڑ ی چراگاہوں کی جانب جاتے ہیں یوں انتخابات میں یہ لوگ ووٹ نہیں ڈال سکیں گے انہوںنے کہا کہ انتخابی فہرستوں میں ہونے والی سنگین غلطیوں کے بارے میں ہم نے چیف الیکشن کمشنر اور متعقلہ ریٹرننگ افیسر کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے مگر اس کے باوجود کوئی اقدام نہ اتھا نا متعلقہ حکام کی کوتاہی ہے ہم چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انتخابی فہرستوں کو درست کرنے کے بعد انتخابات کروائیں اور سیاسی دینی جماعتوں کے تحفظات دور کر یں فہرستیں درست کئے بغیر انتخابات کروائے گئے حکومت کی بد نامی ہو گی انہوںنے کہا کہ انتخابی فہرستوں میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتراض ہے ہم نے اپنے اعتراضات اور خدشات کا اظہارڈسٹرکٹ ریٹرننگ افیسر کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں کر دیا ہے اجلاس میں تمام جماعتوں نے انتخابی فہرستوں میں ہونے والی سنگین غلطیوں کو درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے انہوںنے کہا کہ صاف شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کو یقینی بنانے کےلئے انتخابی فہرستیں درست کرنا ہوں گی انہوں نے کہا کہ گورنر ، وزیر اعلیٰ ، چیف سکریٹری اور چیف الیکشن کمشنر سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غیر جانبدار صاف شفاف الیکشن کو یقینی بنانے کےلئے خصوصی اقدامات کریں اور انتخابی فہرستوں میں ہونے والی خامیوں کو درست کرنے کےلئے احکا مات جاری کریں انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم کے اعلانات پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے جس سے مخالفین پریشان ہوگئے ہیں۔

Comments
Post a Comment