بھارت شدید گرمی کی لپیٹ میں، 500 سے زائد افراد ہلاک

بھارت کی جنوب مشرق کی دو ریاستوں میں اپریل کے وسط سے جاری گرمی کی لہر سے اب تک تقریباً 430 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ آندھرا پردیش ریاست کے وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس ریاست میں پچھلے ہفتے کے دوران شدید گرمی کی وجہ سے سینکڑوں افراد کی اموات ہوئی ہیں۔ جبکہ پڑوسی ریاست تلنگانہ میں گرمی کی وجہ سے بڑی تعداد میں اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔ تلنگانہ کے ضلع کھمام میں ہفتے کے دن زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ نوٹ کیا گیا۔ صحت کے حکام نے عوام سے کہا ہے کہ وہ دوپہر میں گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اس لئے کہ بلند درجہ حرارت اور گرم ہوائوں کی وجہ سے انہیں سن سٹروک ہونے کا خطرہ ہے۔ وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ہم لوگوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں سڑکیں اور مارکیٹیں ویران نظر آ رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے حکام نے کہا ہے کہ کم از کم ایک اور ہفتے تک گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

بدترین لوڈ شیڈنگ، سکردو میں سڑکوں پر افطاری

Cheif of army

سحر و افطار میں لوڈشیڈنگ کرنے پر وزیر اعظم برہم