اقتصادی راہداری منصوبے پر سیاسی قیادت متفق، حکومت کو تعاون کی مکمل یقین دہانی

پاک چین اقتصادی راہداری پر مشاورت کیلئے طلب کی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ اکیسویں صدی اقتصادی مقابلے کی صدی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے ملکی تاریخ میں ترقی کے بیشتر مواقع ضائع کئے تاہم پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے ایک اور موقع ملا ہے۔ تمام سیاسی قیادت بھی منصوبے پر متفق ہو گئی ہے۔ ملک میں سیاسی نظام پختہ ہو رہا ہے۔ سیاستدانوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔ قومی معاملات پر ایک ہونے کی مثبت روایت برقرار رہنی چاہیے۔ نواز شریف نے کہا کہ خنجراب سے گوادر کی راہداری میں مغربی الائنمنٹ کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ دوسری جانب سیاسی قیادت نے پاک چین اقتصادی راہدرای منصوبے کو انتہائی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ راہداری کی تعمیر سے پاکستان میں معاشی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ منصوبے پر قومی سطح پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ میانوالی اور ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن پر اسی سال کام شروع ہو جائے گا۔ جماعت سلامی کے امیر سراج الحق نے کہا کہ اقتصادی راہدری پاکستان کی معاشی خوشحالی کا ذریعہ بنے گی۔ اتفاق رائے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کیلئے خاص طور پر خوش آئند ہے۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ منصوبے کو قومی بنانے کیلئے نگران پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے اسفند یار ولی نے کہا کہ تمام جماعتوں نے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا۔ تمام بڑے فیصلے ایسے ہی مل بیٹھ کر کرنے چاہئیں۔ اسفند یار ولی نے کہا کہ وزیراعظم نے بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام جماعتوں کے مطالبات مان لئے۔

Comments

Popular posts from this blog

بدترین لوڈ شیڈنگ، سکردو میں سڑکوں پر افطاری

Cheif of army

سحر و افطار میں لوڈشیڈنگ کرنے پر وزیر اعظم برہم