سحر و افطار میں لوڈشیڈنگ کرنے پر وزیر اعظم برہم
اسلام آباد:ماہ رمضان نے کوئی اثر کیا نہ ہی حکومتی اعلان نے سحرو افطار اور عام اوقات میں بجلی کی بندش نے حکام کے تمام دعوے ہوا میں اڑا دیئے۔ شارٹ فال کے ساتھ ساتھ تکنیکی خرابیاں بھی وبال جان بن گئیں۔ وزارت پانی و بجلی کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوار سولہ ہزار جبکہ طلب اکیس ہزار میگاواٹ سے بھی زیادہ ہے۔ سحرو افطار کے اوقات میں گھریلو صارفین کیلئے بجلی کا شارٹ تیرہ سو میگاواٹ ریکارڈ کیا گیا۔ بجلی کی پیداوار اور طلب میں پانچ ہزار میگاواٹ کے فرق کے باعث شہری علاقوں میں آٹھ اور دیہات میں بارہ گھنٹے تک بجلی بند کی جا رہی ہے کئی علاقوں میں سسٹم پر لوڈ میں اضافے اور تکنیکی خرابیوں کے باعث بھی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے واضح احکامات کے باوجود سحری اور افطاری کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت پانی و بجلی سے فوری جواب طلب کر لیا ہے۔

Comments
Post a Comment