خواتین کوووٹ ڈالنے سے روکنا جرم ہے،امجدحسین ایڈووکیٹ
گلگت:ممتاز قانون دان اور سابق رکن اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنا عوامی نمائندگی کے ایکٹ کے تحت سنگین جرم ہے اس لئے ہمارا چیف الیکشن کمشنر سے گلگت بلتستان سے مطالبہ ہے کہ وہ جرم کا نوٹس لیں اور جن لوگوں نے حلقہ 17دیامر داریل میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ان کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کے پی این سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ان امیدواروں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے جو خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے فیصلے میں شریک ہیں خواہ ان امیدواروں کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی کے ایکٹ کی خلاف ورزی پر کارروائی کرنا چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری ہے اس لئے انہیں اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنی چاہیے انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا تو پھر انتخابات مشکوک ہو جائیں گے۔ پیپلزپارٹی کی رہنما اور سابق صوبائی وزیر سعدیہ دانش نے داریل میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے فیصلے کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ خواتین اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا گیا تو یہ تاریخ کا سیاہ باب ہو گا آن لائن کے مطابق گلگت بلتستان کی سیاسی جماعتوں نے خواتین کے ووٹ کاسٹ کرنے پر پابندی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو ایکشن لینا چاہئے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ خواتین کے ووٹ کاسٹ کرنے پر پابندی جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہے۔ ن لیگ کے گلگت بلتستان کے صدر حافظ حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا تو بھرپور مذمت کریں گے۔ جمعیت علمائے اسلام جی بی کے جنرل سیکرٹری میر بہادر نے کہا ہے کہ داریل کے تمام امیدواران اسمبلی اس بات پر متفق ہیں کہ خواتین ووٹ کاسٹ نہ کریں کیونکہ وہاں قبائلی نظام ہے اور قبائلی جرگے نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے اور کسی بھی امیدوار کا اعتراض سامنے نہیں آیا۔
گلگت:ممتاز قانون دان اور سابق رکن اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنا عوامی نمائندگی کے ایکٹ کے تحت سنگین جرم ہے اس لئے ہمارا چیف الیکشن کمشنر سے گلگت بلتستان سے مطالبہ ہے کہ وہ جرم کا نوٹس لیں اور جن لوگوں نے حلقہ 17دیامر داریل میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ان کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کے پی این سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ان امیدواروں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے جو خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے فیصلے میں شریک ہیں خواہ ان امیدواروں کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی کے ایکٹ کی خلاف ورزی پر کارروائی کرنا چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری ہے اس لئے انہیں اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنی چاہیے انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا تو پھر انتخابات مشکوک ہو جائیں گے۔ پیپلزپارٹی کی رہنما اور سابق صوبائی وزیر سعدیہ دانش نے داریل میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے فیصلے کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ خواتین اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا گیا تو یہ تاریخ کا سیاہ باب ہو گا آن لائن کے مطابق گلگت بلتستان کی سیاسی جماعتوں نے خواتین کے ووٹ کاسٹ کرنے پر پابندی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو ایکشن لینا چاہئے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ خواتین کے ووٹ کاسٹ کرنے پر پابندی جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہے۔ ن لیگ کے گلگت بلتستان کے صدر حافظ حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا تو بھرپور مذمت کریں گے۔ جمعیت علمائے اسلام جی بی کے جنرل سیکرٹری میر بہادر نے کہا ہے کہ داریل کے تمام امیدواران اسمبلی اس بات پر متفق ہیں کہ خواتین ووٹ کاسٹ نہ کریں کیونکہ وہاں قبائلی نظام ہے اور قبائلی جرگے نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے اور کسی بھی امیدوار کا اعتراض سامنے نہیں آیا۔

Comments
Post a Comment