گندم کے سنگین بحران کےخلاف سکردو،شگر،کھرمنگاور روندومیں مکمل ہڑتال
سکردو(محمد اسحاق جلال)گندم اور آٹا کے سنگین بحران کے خلاف انجمن تاجران کی کال پر سکردو میں مکمل شٹرڈاﺅن ، پہیہ جام ہڑتال رہی ، شہر میں گندم بحران کے خلاف ہونے والی تاریخی ہڑتال کے دوران کوئی شٹرکھلا اور نہ ہی کوئی پہیہ چلا، ہوٹلز ، بھی بند رہے۔ گلگت اور سکردو کے مابین ٹرانسپورٹ سروس بھی معطل رہی شگر ، کھرمنگ، روندو اور گمبہ سکردو میں بھی تمام مارکیٹیں ، دکانیں بند رہیں جس کے باعث لوگوں کو اشیائے ضروریہ کی خریداری میں سنگین قسم کی مشکلات پیش آئیں ، سڑکوں پر ٹریفک معمول سے انتہائی کم نظر آئی، حسینی چوک پر انجمن تاجران نے گندم بحران کے خلاف بہت بڑا جلسہ منعقد کیا اور گندم بحران ختم کرنے اور سکردو کے کوٹے کی 67ہزار بوری گندم کی چوری کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا سکردو بار ایسوسی ایشن نے انجمن تاجران کی ہڑتال کی حمایت میں ریلی نکالی اور انجمن کے جلسے میں شرکت کی ، انجمن کے صدر غلام حسین اطہر نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گندم بحران نے ہر طرف پریشانی پیدا کر دی ہے غریب لوگ دو کلو گندم اور آٹا کیلئے خوار ہو رہے ہیں لیکن حکومت بحران پر قابو پانے کیلئے تیار نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سکردو کے کوٹے کی 67ہزار بوری غائب ہو گئی ہے ہم نے ہزار دفعہ درخواست کی 67ہزار بوری گندم سکینڈل کی تحقیقات کی جائے مگر سکینڈل کی تحقیقات تو درکنار سکردو میں آنے والی گندم کی سپلائی ہی روک دی گئی انہوں نے کہا کہ سکردو ڈپو بالکل خالی ہو گیا ہے اور قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے مگر انتظامیہ تماشا دیکھ رہی ہے انہوں نے کہا کہ بلتستان کے ساتھ انتہائی زیادتی کی جا رہی ہے اور اس علاقے کے کوٹے کی گندم میں بڑے پیمانے پر ہیراپھیری کی جا رہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ سکردو اور گانچھے کو گندم اور آٹے کے بحران سے نجات دلائی جائے جب تک بحران ختم نہیں ہو گا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے انہوں نے کہا کہ ہماری ہڑتال خالصتاً عوامی مسائل کے حل کیلئے ہے اور یہ ہڑتال پرامن رہی اور ہم کامیاب ہو گئے انہوں نے کہا کہ گندم چوروں کے خلاف جب تک کارروائی نہیں ہو گی بحران ختم نہیں ہو گا ہمیں نہیں پتہ کہ چور کون ہے؟تا ہم ہمیں اتنا علم ضرور ہے کہ سکردو کی 67ہزار بوری غائب ہو گئی ہے اور ابھی تک 67ہزار بوری کی گمشدگی کی تحقیقات نہیں ہو رہی ہے جو بڑا ظلم ہے ، غریب عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے ورنہ عوام آئندہ دما دم مست قلندر کریں گے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر افسوس ہے کہ غریب عوام کے نام پر آنے والی گندم غبن کی گئی ہے اور 7کروڑ تین لاکھ ستر ہزار روپے کی بندربانٹ ہوئی ہے اور پتہ ہی نہیں کہ بندربانٹ میں کتنے لوگ ملوث ہیں؟ اور یہ کس قسم کے لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پاسکو کو بقایا جات کی ادائیگی حکومت کی ذمہ داری ہے حکومت کو جلد ادائیگی کر کے بحران ختم کرنا ہو گا ورنہ مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے بار ایسوسی ایشن کے صدر اور معروف قانون دان آخوند محمد علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ گندم اور آٹا بحران نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے مگر بحران پر قابو پانے کیلئے حکومت کچھ نہیں کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ بلتستان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور اس علاقے کو مسائل کے بھنور میں پھنسایا جا رہا ہے بڑے ریجن کو سازش کے تحت حقوق نہیں دیئے جا رہے ہیں اور انتظامیہ سو رہی ہے۔انجمن تاجران کے سرپرست اعلیٰ وزیر اقبال نے کہا کہ حکومت گندم اور آٹا بحران ختم کرے عوام کی پریشانیاں ، مشکلات دور کریں ورنہ ہڑتال طول پکڑ سکتی ہے انہوں نے کہا کہ بلتستان کے عوام مسائل کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں یہاں کے لوگوں کو پی آئی اے میں ٹکٹوں کی کنفرمیشن کیلئے بھی بھاری رشوت دینا پڑتی ہے جب تک رشوت نہ دی جائے تو ٹکٹ کنفرم نہیں ہوتے سازش کے تحت بلتستان کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔

Comments
Post a Comment