سعودی عرب نے مطالبات کی کوئی فہرست نہیں دی: وزیراعظم
وزیراعظم نواز شریف سعودی عرب سے 5 روزہ دورے پر لندن پہنچ گئے۔ کہتے ہیں سعودی عرب بہترین دوست ہے مطالبات کی کوئی فہرست نہیں دی۔ سالمیت کو خطرہ ہوا تو کندھے سے کندھا ملا ک
کھڑے ہوں گے۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سعودی عرب کے دورے کے بعد 5 روزہ دورے پر برطانیہ پہنچ گئے۔ ہتھرو ایئر پورٹ پر پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس اور برطانوی حکام نے ان کا پر تپاک استقبال کیا ۔ وزیراعظم نواز شریف کل برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کریں گے۔ اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا سعودی عرب بہترین دوست ہے مطالبات کی کوئی فہرست نہیں دی۔ یمن کے معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ سالمیت کو خطرہ ہوا تو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا چینی صدر کے دورے میں تاخیر دھرنوں کی وجہ سے ہوئی۔ چینی صدر بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں لائے۔ چینی منصوبوں کی وجہ سے لوگوں کو روزگار ملے گا۔ گیس پائم لائنیں بھی بنائیں گے پورٹ قاسم پر بجلی کے منصوبے لگائیں گے اور گوادر میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنائیں گے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہم نے پاکستان میں بجلی اور پٹرول کی قیمتیں کم کی ہیں اور اب پاکستان کے اقتصادی حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ ہزارہ موٹروے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر میں کول پاور پراجیکٹ لگا رہے ہیں۔ اس سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے سعودی دارالحکومت ریاض میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی جس میں یمن کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور،مشرق وسطیٰ میں امن وسلامتی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ۔ دفتر خارجہ سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اس کو لاحق خطرات پر خاموش نہیں رہ سکتا ۔ وزیر اعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ سعودی عرب کے خلاف کسی قسم کی جارحیت پر مضبوط اور موثر جواب دیں گے۔ پاکستان حوثیوں کے ہاتھوں یمن کی حکومت کو الٹنے کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حوثی صنعا سمیت زیر قبضہ علاقے چھوڑ دیں۔ وزیراعظم نے ریاض میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات کی تھی جبکہ نائب ولی عہد شہزادہ اور وزیر داخلہ محمد بن نائف اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی وزیر اعظم نوازشریف کی ملاقاتیں ہوئیں۔ دورہ سعودی عرب میں وزیر دفاع خواجہ آصف ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ بھی ساتھ تھے ۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سعودی عرب کے دورے کے بعد 5 روزہ دورے پر برطانیہ پہنچ گئے۔ ہتھرو ایئر پورٹ پر پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس اور برطانوی حکام نے ان کا پر تپاک استقبال کیا ۔ وزیراعظم نواز شریف کل برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کریں گے۔ اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا سعودی عرب بہترین دوست ہے مطالبات کی کوئی فہرست نہیں دی۔ یمن کے معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ سالمیت کو خطرہ ہوا تو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا چینی صدر کے دورے میں تاخیر دھرنوں کی وجہ سے ہوئی۔ چینی صدر بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں لائے۔ چینی منصوبوں کی وجہ سے لوگوں کو روزگار ملے گا۔ گیس پائم لائنیں بھی بنائیں گے پورٹ قاسم پر بجلی کے منصوبے لگائیں گے اور گوادر میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنائیں گے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہم نے پاکستان میں بجلی اور پٹرول کی قیمتیں کم کی ہیں اور اب پاکستان کے اقتصادی حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ ہزارہ موٹروے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر میں کول پاور پراجیکٹ لگا رہے ہیں۔ اس سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے سعودی دارالحکومت ریاض میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی جس میں یمن کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور،مشرق وسطیٰ میں امن وسلامتی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ۔ دفتر خارجہ سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اس کو لاحق خطرات پر خاموش نہیں رہ سکتا ۔ وزیر اعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ سعودی عرب کے خلاف کسی قسم کی جارحیت پر مضبوط اور موثر جواب دیں گے۔ پاکستان حوثیوں کے ہاتھوں یمن کی حکومت کو الٹنے کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حوثی صنعا سمیت زیر قبضہ علاقے چھوڑ دیں۔ وزیراعظم نے ریاض میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات کی تھی جبکہ نائب ولی عہد شہزادہ اور وزیر داخلہ محمد بن نائف اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی وزیر اعظم نوازشریف کی ملاقاتیں ہوئیں۔ دورہ سعودی عرب میں وزیر دفاع خواجہ آصف ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ بھی ساتھ تھے ۔

Comments
Post a Comment